امریکی فوج کے ایران میں نئے حملے، میزائل سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا

امریکی فوج نے جنوبی ایران میں نئی فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے
( واشنگٹن / رائٹرز ) امریکی فوج نے جنوبی ایران میں نئی فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ حملے “دفاعی کارروائی” کے طور پر کیے گئے تاکہ خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو ایرانی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے کہا کہ امریکی فوج جنگ بندی کے باوجود اپنی افواج کے دفاع کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اس دوران تحمل کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق حملوں کا مرکز جنوبی ایرانی بندرگاہی شہر بندر عباس کے قریب کا علاقہ تھا، جہاں ایران کا اہم بحری اڈہ بھی موجود ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے حملوں سے قبل علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی تصدیق کی تھی، تاہم ایران کی جانب سے اب تک ان امریکی حملوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا

دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچنے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے اور آئندہ چند روز میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک “اچھا معاہدہ” چاہتے ہیں، بصورت دیگر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ غور مجوزہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات شامل ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایران کی سپریم قیادت خفیہ مقام پر موجود ہے، جس کے باعث مذاکرات کی رفتار متاثر ہو رہی ہے

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خلیج میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں تناؤ کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 26 مئی، 2026 کو 03:22 AM
آخری تدوین: 26 مئی، 2026



