مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار، ایران کا بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ، امریکی کارروائیاں بھی جاری

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔ ایران نے بحرین میں امریکی بحری بیڑے، جفیر ایئربیس اور دیگر فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکی فوج نے ایران پر مسلسل تیسرے روز کارروائیاں جاری رکھیں۔ اردن نے بھی چار میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا
تہران / واشنگٹن / منامہ: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک جانب امریکی فوج نے ایران پر مسلسل تیسری رات بھی حملے کیے، جبکہ دوسری جانب ایران نے بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات اور بحری بیڑے کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے اور جفیر ایئربیس پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ بیان کے مطابق حملوں کے نتیجے میں امریکی اڈے پر ایندھن کے ذخائر میں آگ لگ گئی، جبکہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ریڈار سسٹم اور ڈرون آپریشن سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ جفیر ایئربیس میں اسلحہ گودام، سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی فوجیوں کی رہائشی عمارت بھی حملوں کی زد میں آئیں۔
ایرانی بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو سپر آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے ایرانی وارننگ کو نظر انداز کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی فوج کی جانب سے ایران پر مسلسل تیسرے روز حملے جاری ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار مختلف اڈوں پر تعینات ہیں۔
ادھر اردن کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آنے والے چار میزائل ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل کامیابی سے مار گرائے گئے۔
آزاد ذرائع سے ایران اور امریکا کے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے مزید سرکاری بیانات کا انتظار ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 14 جولائی، 2026 کو 07:56 AM
آخری تدوین: 14 جولائی، 2026



