برطانیہ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا، سخت قانونی کارروائی کا اعلان

برطانیہ نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس سے وابستہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ نئی قانون سازی کے تحت معاونت یا حمایت پر 14 سال تک قید جبکہ تخریب کاری میں ملوث عناصر کو عمر قید کی سزا دی جا سکے گی
برطانیہ نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (اسلامک ریولوشنری گارڈ کور – آئی آر جی سی) کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے تنظیم سے وابستہ افراد اور اس کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ اقدام غیر ملکی ریاستوں کی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے متعارف کرائی گئی ہنگامی قانون سازی کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد برطانیہ کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کے علاوہ اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ اور روس سے منسلک جی آر یو والنٹیئر کور کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر برطانوی پارلیمنٹ رواں ہفتے اس فیصلے کی منظوری دے دیتی ہے تو ان تنظیموں سے وابستہ یا ان کی جانب سے تخریب کاری، آتش زنی یا دیگر جرائم میں ملوث افراد کو عمر قید تک کی سزا دی جا سکے گی۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ حکومت کسی بھی ایسی غیر ملکی قوت کو برطانیہ میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی جو خوف، تشدد یا معاشرتی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اپنی سرزمین کو ایسی سرگرمیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دے گا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق نئی قانون سازی کے ذریعے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریاستی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمیوں کے خلاف مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔ نئی قانونی شقوں کے تحت ان تنظیموں کی حمایت، معاونت یا ان کے لیے کام کرنا بھی جرم تصور ہوگا، جس پر 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی مزید آسان ہوگی جو ان گروہوں کے ساتھ تعاون کرتے یا ان کی سرگرمیوں میں سہولت کاری فراہم کرتے پائے جائیں گے۔ برطانوی حکومت نے یاد دلایا کہ وہ اس سے قبل بھی ایران کے خلاف متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے، جن میں پاسدارانِ انقلاب پر سخت پابندیاں اور ایران سے منسلک 550 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں شامل ہیں۔
برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ ان تنظیموں سے وابستہ افراد کو تلاش کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ہر ضروری قدم اٹھاتی رہے گی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 جولائی، 2026 کو 05:00 PM
آخری تدوین: 13 جولائی، 2026



