اسماعیل بقائی کا امریکا پر عمان کو دباؤ میں لانے کا الزام، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ختم شدہ قرار دے دیا

ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر عمان کو دباؤ میں لا کر آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عملی طور پر ختم شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا معاہدے پر عمل نہیں کرتا تو ایران بھی اپنے وعدوں کا پابند نہیں رہے گا
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عمان پر دباؤ ڈال کر آبنائے ہرمز کے حوالے سے مشترکہ طریقہ کار کی تشکیل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی 14 شقوں کو مسخ کر دیا ہے اور اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں کی ہیں، جبکہ ایران نے کبھی اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو ایران بھی اپنے وعدوں کا پابند نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے حوالے سے مشترکہ طریقہ کار تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکا کا عمان پر دباؤ اس عمل میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق اب اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد دونوں فریقوں کی یکساں ذمہ داری ہوتی ہے اور کسی ایک فریق کی خلاف ورزی معاہدے کو غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، قطر اور عمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔
قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے ایران اور امریکا سے فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل کے بعد اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کے خلاف کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقِ دفاع کے دائرے میں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک سے سوال کیا جانا چاہیے جو اپنی سرزمین اور فوجی اڈے امریکا کو فراہم کرتے ہیں، جبکہ ایران کو اپنے دفاع کے حق پر تنقید کا نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کے بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر سرکاری طور پر تسلیم شدہ نام "خلیج فارس" استعمال کیا جانا چاہیے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ ہدایات پر عمل کیا جائے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 جولائی، 2026 کو 04:16 PM
آخری تدوین: 13 جولائی، 2026



