پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمت، سلامتی اور خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعادہ

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے یمن میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور جامع سیاسی عمل پر بھی زور دیا
نیویارک / اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً یمن کی صورتحال پر ہونے والے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے اور برادر ملک کی سلامتی و خودمختاری کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بھی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور تحمل کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
عثمان جدون نے مزید کہا کہ یمن میں دیرپا امن صرف ایک جامع اور با معنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس میں تمام متعلقہ فریقوں کی شرکت اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف میزائل فائر کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ان میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
اس سے قبل حوثی گروپ نے صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے سعودی عرب کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی برادری مسلسل تحمل اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 14 جولائی، 2026 کو 08:10 AM
آخری تدوین: 14 جولائی، 2026



