ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن، فوجی کارروائیاں مزید جاری رکھنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، تاہم امریکی فوجی کارروائیاں مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہیں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدہ اب بھی ممکن ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی کارروائیاں آئندہ دو سے تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق چند روز قبل دونوں فریق ایک ممکنہ معاہدے کے قریب تھے، لیکن بعد ازاں ایران نے مزید مذاکرات کی ضرورت ظاہر کی، جس کے باعث پیش رفت رک گئی۔
ایک قدامت پسند امریکی ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں آئندہ چند ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے ایران کی ایک انتہائی محفوظ جوہری تنصیب کو ممکنہ ہدف قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، جبکہ ایرانی قیادت کے حوالے سے بھی کئی دعوے کیے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں نئی سیکیورٹی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ ان کے مطابق پابندیاں صرف ایرانی جہازوں اور ایران سے تیل خریدنے والے ممالک یا کمپنیوں پر لاگو ہوں گی، جبکہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کی جائے گی تاکہ سیکیورٹی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق اس نئے نظام پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کیا جا رہا ہے۔
سیاسی اور دفاعی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک طرف سفارتی حل کی امید ظاہر کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب فوجی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ ایران کی جانب سے ان بیانات پر باضابطہ ردعمل سامنے آنے کا انتظار ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 14 جولائی، 2026 کو 07:42 AM
آخری تدوین: 14 جولائی، 2026



