وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

ٹرمپ کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شمولیت کا مطالبہ

W
Web Desk
26 مئی، 2026
ٹرمپ کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شمولیت کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کے بعد سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں، بصورت دیگر خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہو جائیں، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت جاری ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان یا تو ایک بہترین معاہدہ طے پائے گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، اور ایسی صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا، اسی لیے امریکا ایک جامع اور دیرپا معاہدے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق انہوں نے حالیہ دنوں میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سمیت متعدد رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان رہنماؤں سے بات چیت کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کی جانب سے خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کے بعد ضروری ہے کہ یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔

ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے، مصر اور اردن کو اس تاریخی معاہدے کا حصہ بننا چاہیے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کچھ ممالک کے پاس اس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی کوئی معقول وجہ ہو تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، تاہم زیادہ تر ممالک کو خطے میں امن اور تعلقات کے فروغ کیلئے اس معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے سعودی عرب اور قطر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری طور پر اس معاہدے پر دستخط کرنے چاہئیں، بصورت دیگر یہ عمل "بری نیت" کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ بعض مسلم رہنماؤں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل کیا جائے، جسے انہوں نے "غیر معمولی پیشرفت" قرار دیا۔

ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر مختلف ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنے کیلئے سفارتی عمل کا آغاز کریں۔

واضح رہے کہ سال 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین اور چند دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جسے "ابراہیمی معاہدہ" کا نام دیا گیا تھا۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 26 مئی، 2026 کو 04:35 AM

آخری تدوین: 26 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

 اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی، سیمنٹ، آئی ٹی اور آٹو سیکٹر کے لیے مثبت اشارہ
پاکستان

اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی، سیمنٹ، آئی ٹی اور آٹو سیکٹر کے لیے مثبت اشارہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کے تحت بنیادی شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سیمنٹ، آئی ٹی، اسٹیل اور آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے

Web Desk15 جون، 2026
امن کا سورج طلوع، امریکا ایران معاہدہ طے، پاکستان امن تقریب کی میزبانی کرے گا: وزیراعظم شہباز شریف
پاکستان

امن کا سورج طلوع، امریکا ایران معاہدہ طے، پاکستان امن تقریب کی میزبانی کرے گا: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جنگ بندی کے بعد 19 جون کو جنیوا میں ہونے والی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ وزیراعظم نے عالمی معاشی حالات میں بہتری کے اثرات عوام تک پہنچانے اور امن عمل میں پاکستان کے کردار کو تاریخی قرار دیا

Web Desk15 جون، 2026
امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب، امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے
امریکا

امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب، امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے

وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے جبکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

Web Desk15 جون، 2026