امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا ایران معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے کو کانگریس کے سامنے منظوری اور ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے۔ انہوں نے معاہدے کی مختلف تشریحات پر بھی تشویش ظاہر کی
(واشنگٹن )ایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے باقاعدہ طور پر امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں لنڈسے گراہم نے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے معاہدے کی جو تشریح کی جا رہی ہے، وہ امریکی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اہم سفارتی پیش رفت کے مختلف فریقوں کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے معاہدے کی تفصیلات اور اس کے عملی اطلاق کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے کو شفافیت کے تقاضوں کے تحت کانگریس کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ اراکین اس کا تفصیلی جائزہ لے سکیں اور اس پر باقاعدہ ووٹنگ ہو سکے۔
لنڈسے گراہم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ معاہدے کی حتمی شرائط اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی غلط فہمی یا تنازع پیدا نہ ہو۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ مختلف سیاسی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے اس کے ممکنہ اثرات اور شرائط پر تبصرے جاری ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 جون، 2026 کو 01:47 PM
آخری تدوین: 15 جون، 2026



