بشریٰ بی بی نے سزا معطلی اور ضمانت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا

بشریٰ بی بی نے ٹرائل کورٹ کی سزا معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر دی۔ درخواست میں دورانِ قید صحت کی خرابی، آنکھ کی سرجری، طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور نیب پر تاخیر کے الزامات کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے
اسلام آباد: سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دورانِ قید بشریٰ بی بی کی صحت متاثر ہوئی اور انہیں آنکھوں کی بیماری لاحق ہو گئی، جس کے باعث ان کی آنکھ کی سرجری بھی کرنا پڑی۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ خاتون ہونے، علالت اور صحت کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر وہ سزا معطلی اور ضمانت کی مستحق ہیں۔
اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو دورانِ قید تنہائی میں رکھا گیا، جہاں انہیں مناسب طبی سہولیات اور ضروری دیکھ بھال فراہم نہیں کی گئی، جس سے ان کی صحت مزید متاثر ہوئی۔
درخواست میں قومی احتساب بیورو (نیب) پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلے میں جان بوجھ کر تاخیر اور رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔
اپیل میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔
واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے اس درخواست پر سماعت کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جولائی، 2026 کو 02:21 PM
آخری تدوین: 30 جولائی، 2026



