غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ، ٹرمپ کا بڑا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ کرلیا ہے، جس کے تحت نئی فلسطینی حکومت، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا منصوبہ شامل ہے
(واشنگٹن )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے سے متعلق ایک معاہدہ طے کر لیا ہے، جسے انہوں نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ معاہدے کے تحت غزہ میں حماس اور دیگر مسلح تنظیموں کو مرحلہ وار غیر مسلح کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جیسے ہی غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گا اور اس پر مرحلہ وار اور منظم انداز میں عمل درآمد کیا جائے گا۔
امریکی صدر کے مطابق معاہدے کے تحت ایک بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کے تعاون سے غزہ میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کی ذمہ داریاں سنبھالے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس پیش رفت کو "تاریخی معاہدہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔
تاہم، اس معاہدے سے متعلق حماس، اسرائیل یا دیگر متعلقہ فریقین کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاہدے کی تفصیلات بھی ابھی مکمل طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے اس اعلان کے مختلف پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 31 جولائی، 2026 کو 03:06 AM
آخری تدوین: 31 جولائی، 2026



