قیدی کا نجی اسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف قرار، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری


وفاقی آئینی عدالت نے قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرز پر طبی سہولیات دینے کی درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک پر زور دیا
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے تمام قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرز پر طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔
دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ قیدی کا نجی اسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ نجی اسپتال کیوں؟ قیدی کا علاج پمز یا پولی کلینک میں کیوں نہیں ہوسکتا؟
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ جیل مینول واضح ہیں اور غیر مساوی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔
عدالت نے کیس میں معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا، جبکہ تین قیدیوں کی اپیلوں پر دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

شائع ہوا: 14 ستمبر، 2026 کو 06:40 AM
آخری تدوین: 14 ستمبر، 2026



