ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا، انتظامی یونٹ کہیں یا صوبے ان کی طرف جانا ہوگا: محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کا قیام ملکی مسائل کا مؤثر حل ہے۔ انہوں نے نظام میں اصلاحات، عوامی رائے، نوجوانوں کے حقوق، سیاسی اتفاقِ رائے اور بزنس کمیونٹی کے کردار پر بھی زور دیا
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، تاہم اس اہم معاملے کو عوام کے پاس لے جانا ہوگا تاکہ قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، لیکن آج انہیں ملکی نظام سے متعلق چند اہم سیاسی نکات پر بات کرنا ضروری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف صوبوں سے آنے والے شرکا نے اپنے اپنے مسائل بیان کیے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ انتظامی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت سب کی خواہش ہے، تاہم مسائل کے حل کے لیے نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی نظام کو چلانے اور اس کی مالی معاونت کرنے والے افراد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، اور اگر تمام اسٹیک ہولڈرز اصلاحات پر متفق ہو جائیں تو نظام میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں ہر چیز خراب نہیں، لیکن اسے مؤثر بنانے کے لیے بڑی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر آج بھی کئی شہری انصاف کے حصول کے لیے گھنٹوں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے معاملے پر عوامی سطح پر مکالمہ کیا جائے اور اس موضوع پر پارلیمنٹ، جامعات اور دیگر قومی فورمز میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے نئی سیاسی قیادت سامنے آئے گی اور گورننس کا نظام مزید مؤثر ہوگا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے صوبوں سمیت ملک کے اہم قومی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنی ہوگی، کیونکہ باہمی اتفاق کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔
انہوں نے نوجوانوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ دینا کافی نہیں، بلکہ نوجوان شفاف نظام، میرٹ پر روزگار اور اپنے بنیادی حقوق چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر نوجوانوں کی توقعات پوری نہ کی گئیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
محسن نقوی نے بزنس کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ صرف مالی معاونت تک محدود نہ رہے بلکہ قومی پالیسی سازی اور اصلاحاتی عمل میں بھی فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بنیاد مضبوط کیے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی محنت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ طویل اوقات تک کام کرتے ہیں، مگر صرف ہنگامی مسائل نمٹانے سے دیرپا بہتری نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق ملک کو آگے بڑھانے کے لیے پورے نظام کو ازسرِنو منظم کرنا ہوگا۔
آخر میں وفاقی وزیر داخلہ نے بزنس کمیونٹی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگر تمام قومی قوتیں متحد ہو جائیں تو پاکستان کے مسائل کا حل ممکن ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جولائی، 2026 کو 01:56 PM
آخری تدوین: 30 جولائی، 2026



