امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی، 20 تجارتی جہاز واپس موڑنے کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب تک 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے، جبکہ متعدد بحری کارروائیاں بھی کی گئی ہیں
واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر دوبارہ عائد کی گئی بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد گزشتہ روز تک 18 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا تھا، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید دو جہازوں کو بھی اپنی منزل کی جانب جانے سے روک کر واپس بھیج دیا گیا۔
سینٹ کام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے کارروائی کے دوران دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا، جبکہ دو دیگر تجارتی جہازوں پر سوار ہو کر تلاشی لی گئی اور ضروری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
امریکی فوج کی جانب سے ان کارروائیوں کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور خلیجی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جولائی، 2026 کو 03:35 AM
آخری تدوین: 30 جولائی، 2026



