امریکی فوج نے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹ کام کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف ایک بار پھر فضائی حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر مبینہ ایرانی حملوں کی کوشش کے جواب میں کی جا رہی ہے
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 8 بجے ایران کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی گئی۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کی کوشش کے جواب میں کی جا رہی ہے۔
سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر کیے جانے والے حالیہ حملے تہران کے اقدامات کے خلاف "طاقتور اور فیصلہ کن ردِعمل" ہیں، جبکہ خطے میں امریکی افواج اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم امریکی دفاعی نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج پر بیلسٹک میزائل حملے کی کوشش کو بروقت ناکام بنایا گیا اور متعدد ایرانی میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔
انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اپنے فوجیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور ایران کے خلاف سخت ردِعمل دیا جائے گا۔
امریکی حکام کی جانب سے فضائی حملوں کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں دونوں ممالک کی آئندہ حکمتِ عملی پر مرکوز ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جولائی، 2026 کو 03:16 AM
آخری تدوین: 30 جولائی، 2026



