پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر، ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن پر غور


پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث وفاقی حکومت نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن پر دوبارہ غور شروع کردیا۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو غیر ضروری نقل و حرکت محدود کرنے اور تین روزہ تعطیلات کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ حتمی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی
اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث وفاقی حکومت نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ایک اور آپشن پر غور شروع کردیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو اسمارٹ لاک ڈاؤن یا غیر ضروری نقل و حرکت محدود کرنے کی مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ اس اقدام کا مقصد پیٹرول کی کھپت کم کرنا، غیر ضروری سفر کی حوصلہ شکنی اور توانائی کے استعمال کو محدود کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کے باقی چار روز کاروباری اور سرکاری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ممکنہ نفاذ سے سرکاری، کاروباری اور عوامی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں سے تجاویز اور سفارشات حاصل کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق تمام تجاویز کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی جائے گی، جس کی روشنی میں اسمارٹ لاک ڈاؤن یا تین روزہ تعطیلات سے متعلق حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
حکومت کی جانب سے اس اقدام پر بنیادی توجہ پیٹرول کی بچت، غیر ضروری نقل و حرکت میں کمی اور توانائی کے استعمال کو محدود کرنے پر مرکوز ہے۔

شائع ہوا: 15 ستمبر، 2026 کو 02:30 PM
آخری تدوین: 15 ستمبر، 2026



