آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکر میں شدید آگ، ایران اور امریکا کے متضاد دعوے


آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکر ایل گایا کو نقصان پہنچنے اور آگ لگنے کا واقعہ، ایران نے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ کیا جبکہ امریکا نے ایرانی میزائل حملے کو وجہ قرار دے دیا
آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکر ایل گایا کو نقصان پہنچنے کے بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے حوالے سے ایران اور امریکا کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق آئل ٹینکر ایل گایا ایک ممنوعہ زون سے گزر رہا تھا اور اسے سمندری بارودی سرنگوں سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور مکمل کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے۔
امریکا کا ایرانی دعوے سے اختلاف
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے نہیں ٹکرایا بلکہ اسے گزشتہ ماہ ایرانی میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چند ہفتے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں موجود تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔
عملے کے دو ارکان لاپتا
اقوام متحدہ کے مطابق ایل گایا کو نقصان پہنچا ہے جبکہ عملے کے دو ارکان لاپتا ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی
رائٹرز کے مطابق ایل گایا کے واقعے پر ایران اور امریکا کی جانب سے کیے گئے متضاد دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران نے ایل گایا سمیت متعدد بحری جہازوں پر آبنائے ہرمز کے قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور بغیر اجازت آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں کو وارننگ بھی جاری کی ہے۔

شائع ہوا: 15 ستمبر، 2026 کو 05:07 AM
آخری تدوین: 15 ستمبر، 2026



