امریکا وینزویلا کی طرح ایران کا تیل بھی قبضے میں لے سکتا ہے: صدر ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا وینزویلا کی طرز پر ایران میں موجود رہنے اور ایرانی تیل کو اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ رواں برس ختم ہونے اور امن مذاکرات کے امکانات پر بھی بات کی، جبکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے
آئرلینڈ کے دورے کے دوران گالف میچ دیکھتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ رواں برس ختم ہوجائے گی۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے کا امکان نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ صرف ایسا معاہدہ کرے گا جو واشنگٹن کے لیے درست اور قابل قبول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر رضامند نہیں ہوں گے جو ان کے نزدیک اچھا نہ ہو۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران امن مذاکرات کے لیے مسلسل رابطے میں ہے، تاہم تہران ماضی میں ایسے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاملات کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے وینزویلا کی مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ موجودہ معاملات جاری رکھے جاسکتے ہیں اور مستقبل میں امریکا وہاں سے نکل بھی سکتا ہے۔
تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایک امکان یہ ہے کہ امریکا ایران میں موجود رہے اور وینزویلا کی طرح وہاں کے تیل کو اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ کرے۔
ٹرمپ کے مطابق وینزویلا سے حاصل ہونے والی آمدنی نے جنگ پر آنے والے اخراجات سے کئی گنا زیادہ رقم فراہم کی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ سے عالمی تیل مارکیٹ متاثر
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل کی منڈیوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ سعودی تیل پائپ لائن پر حملے کے بعد تیل کے تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے دوران تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کی بندش نے بھی عالمی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ایران اور امریکا اسرائیل جنگ
فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 اکتوبر کو ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد جنگ کا آغاز ہوا۔ امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات پیدا کیے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی سپلائی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

شائع ہوا: 14 ستمبر، 2026 کو 04:51 AM
آخری تدوین: 14 ستمبر، 2026



