ایران نے جنگ شروع نہیں کی، دفاع پر مجبور ہوا: مسعود پزشکیان


ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف دفاع پر مجبور ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا اور مذاکرات کے دوران حملہ کیا گیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف دفاع پر مجبور ہوا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بھارتی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ حملوں کے باوجود ایرانی قوم مزید متحد ہوئی ہے اور ملک نے بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اپنا دفاع کیا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر مؤقف
مسعود پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا اور اسرائیل کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، جبکہ تہران معاہدے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ ان کے مطابق ایران ایک فریم ورک پر اتفاق کرچکا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مسترد کردیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی، لیکن حملے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔
خطے کے ممالک سے دوستانہ تعلقات
مسعود پزشکیان نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، پاکستان، قطر، روس اور چین سمیت خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو دوستانہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے بنیادی مسئلہ ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایرانی صدر کے بیان کے مطابق تہران خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات اور باہمی تعاون کا خواہاں ہے، تاہم وہ بیرونی فوجی موجودگی کو خطے میں کشیدگی کی ایک اہم وجہ سمجھتا ہے۔

شائع ہوا: 14 ستمبر، 2026 کو 04:11 AM
آخری تدوین: 14 ستمبر، 2026



