امریکی سینیٹر کی ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر سعودیہ عرب کو دھمکی

صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور دوست سینیٹر لنزی گراہم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر ریاض ایران کے خلاف جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے کے لیے تیار نہیں تو پھر امریکہ کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے؟
سینیٹر گراہم نے کہا ہے کہ ’جب امریکہ خطے میں ایران کے خلاف کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور امریکی شہری بھی اس تنازع کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، تو پھر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سعودی عرب، جسے امریکہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے کیوں گریز کر رہا ہے۔‘
امریکی سینیٹر کے اس بیان کو ناصرف سعودی اور عرب صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے بلکہ اس نے واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات پر بحث چھیڑ دی ہے جس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی محتاط حکمتِ عملی کیا خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش ہے، یا ریاض واقعی اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے رہا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیویارک ٹائمز کی یہ خبر کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سعودی عرب میں امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑے کا حکم دیا ہے، شیئر کرتے ہوئے لنزے گراہم نے لکھا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانہ خالی کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں
انھوں نے لکھا ’میری سمجھ کے مطابق، سعودی عرب اپنی مضبوط فوجی صلاحیتوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے سے انکار کر رہا ہے کہ وہ اس بربریت اور دہشت گردی پر مبنی ایرانی حکومت کو ختم کرے، جس نے پورے خطے میں دہشت پھیلائی اور سات امریکی شہریوں کو ہلاک کیا۔

امریکی سینیٹر نے سوال کیا کہ ’امریکہ کو ایسے ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے جو مشترکہ مفاد کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے تیار نہ ہو؟‘
لنزی گراہم نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’امریکی شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور امریکہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ وہ اس دہشت گرد ایرانی حکومت کو ختم کرے جو خطے کے لیے خطرہ ہے۔ مگر اس دوران، سعودی عرب بظاہر کچھ بیانات جاری کر رہا ہے اور پسِ پردہ محدود اقدامات کر رہا ہے۔۔۔ لیکن ایران کے دہشت گردانہ تسلط کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔
شائع ہوا: 11 مارچ، 2026 کو 06:21 AM
آخری تدوین: 27 مارچ، 2026



