وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
دُنیا

امریکی سینیٹر کی ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر سعودیہ عرب کو دھمکی 

W
Web Desk
11 مارچ، 2026
امریکی سینیٹر کی ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر سعودیہ عرب کو دھمکی 

صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور دوست سینیٹر لنزی گراہم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر ریاض ایران کے خلاف جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے کے لیے تیار نہیں تو پھر امریکہ کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے؟

سینیٹر گراہم نے کہا ہے کہ ’جب امریکہ خطے میں ایران کے خلاف کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور امریکی شہری بھی اس تنازع کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، تو پھر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سعودی عرب، جسے امریکہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے کیوں گریز کر رہا ہے۔‘

امریکی سینیٹر کے اس بیان کو ناصرف سعودی اور عرب صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے بلکہ اس نے واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات پر بحث چھیڑ دی ہے جس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی محتاط حکمتِ عملی کیا خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش ہے، یا ریاض واقعی اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے رہا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیویارک ٹائمز کی یہ خبر کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سعودی عرب میں امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑے کا حکم دیا ہے، شیئر کرتے ہوئے لنزے گراہم نے لکھا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانہ خالی کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں

انھوں نے لکھا ’میری سمجھ کے مطابق، سعودی عرب اپنی مضبوط فوجی صلاحیتوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے سے انکار کر رہا ہے کہ وہ اس بربریت اور دہشت گردی پر مبنی ایرانی حکومت کو ختم کرے، جس نے پورے خطے میں دہشت پھیلائی اور سات امریکی شہریوں کو ہلاک کیا۔

امریکی سینیٹر نے سوال کیا کہ ’امریکہ کو ایسے ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے جو مشترکہ مفاد کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے تیار نہ ہو؟‘

لنزی گراہم نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’امریکی شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور امریکہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ وہ اس دہشت گرد ایرانی حکومت کو ختم کرے جو خطے کے لیے خطرہ ہے۔ مگر اس دوران، سعودی عرب بظاہر کچھ بیانات جاری کر رہا ہے اور پسِ پردہ محدود اقدامات کر رہا ہے۔۔۔ لیکن ایران کے دہشت گردانہ تسلط کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 11 مارچ، 2026 کو 06:21 AM

آخری تدوین: 27 مارچ، 2026

متعلقہ مضامین

بھارت میں اقلیتوں اور مذہبی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ
تازہ ترین

بھارت میں اقلیتوں اور مذہبی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ

بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ تشدد کے واقعات میں اضافہ، بہار میں مسجد پر حملے اور مدھیہ پردیش میں مسلمان تاجروں پر تشدد کی اطلاعات سامنے آگئیں

Web Desk1 نومبر، 2026
اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے مطالبات میں شدت
تازہ ترین

اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے مطالبات میں شدت

اسرائیل میں سیکڑوں مظاہرین نے اپوزیشن جماعتوں سے عرب سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے نیتن یاہو حکومت ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ مشترکہ اتحاد سے پارلیمنٹ میں 67 نشستوں کی اکثریت ممکن ہے

Web Desk1 نومبر، 2026
یوکرین میں توانائی کا بحران شدت اختیار کرگیا، لاکھوں گھر بجلی سے محروم، زیلنسکی کا اعتراف
تازہ ترین

یوکرین میں توانائی کا بحران شدت اختیار کرگیا، لاکھوں گھر بجلی سے محروم، زیلنسکی کا اعتراف

یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث لاکھوں گھرانے بجلی سے محروم ہوگئے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق دنیپروپیٹروفسک میں 2 لاکھ جبکہ کیف میں 80 ہزار سے زائد گھرانوں کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ روس نے یوکرین کے توانائی اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے

Web Desk1 نومبر، 2026