امریکی مڈٹرم انتخابات ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی، مسلمان اور سیاہ فام رہنماؤں نے نئے ریکارڈ قائم
محمد نعیم اختر4 نومبر، 2026
امریکہ کے 2026 مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی تاریخی کامیابی، ٹیکساس اور کنساس میں بڑے اپ سیٹ، عبدالسید امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب، الیہان عمر، رشیدہ طلیب اور دیگر مسلمان رہنماؤں کی کامیابی، جبکہ سیاہ فام امیدواروں نے گورنر اور سینیٹ کے اہم عہدوں پر نئے ریکارڈ قائم کر دیے
امریکہ کے 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی۔ ٹیکساس، کنساس، جنوبی کیرولائنا، شمالی کیرولائنا، آئیووا اور اوہائیو جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے اہم کامیابیاں سمیٹیں، جس سے امریکی سیاست میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے آثار نمایاں ہوگئے۔
ان انتخابات میں مسلمان امریکی امیدواروں نے بھی تاریخ رقم کی۔ عبدالسید امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوئے، جبکہ الیہان عمر، رشیدہ طلیب، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن نے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ نیو جرسی سے ڈاکٹر آدم حموی اور نیویارک سے دریالیزا اویلا شیولیئر پہلی مرتبہ ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے۔ یوں مجموعی طور پر سات مسلمان رہنماؤں نے کانگریس میں جگہ بنائی۔

سیاہ فام امریکی امیدواروں نے بھی اہم سیاسی ریکارڈ قائم کیے۔ جارجیا میں کیشا لانس باٹمز ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں، جبکہ فلوریڈا میں بائرن ڈونالڈز اور وسکانسن میں ڈیوڈ کراولی اپنی ریاستوں کے پہلے سیاہ فام گورنر بن گئے۔

الینوائے سے جولیانا اسٹریٹن نے سینیٹ کی نشست جیت کر سیاہ فام خواتین کی قومی سیاسی نمائندگی میں اضافہ کیا۔ نیویارک سے حکیم جیفریز بھی ڈیموکریٹک قیادت کے اہم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان انتخابی نتائج نے امریکی سیاست میں نئی قیادت کے ابھرنے، روایتی سیاسی وفاداریوں میں تبدیلی اور مختلف نسلی و مذہبی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کو نمایاں کر دیا ہے۔ معیشت، مہنگائی اور حکومتی کارکردگی بھی ووٹرز کے فیصلوں میں اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 07:03 PM
آخری تدوین: 4 نومبر، 2026



