وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکی وسط مدتی انتخابات

ایران جنگ ریپبلکنز کی شکست کی بڑی وجہ، جے ڈی وینس کا اعتراف

W
Web Desk
4 نومبر، 2026
ایران جنگ ریپبلکنز کی شکست کی بڑی وجہ، جے ڈی وینس کا اعتراف

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دے دیا۔ مہنگائی، امریکا فرسٹ پالیسی اور اسرائیل سے تعلقات میں تبدیلی ووٹرز کے اہم مطالبات قرار

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کا دیانتداری سے جائزہ لینے کے لیے سب سے پہلے جنگ کے اثرات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خاتمے، مہنگائی پر قابو پانے اور امریکا فرسٹ پالیسی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک طویل بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ریپبلکنز کی شکست کی وجہ جنگ ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی گزشتہ رات اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ان کے بقول سب جانتے ہیں کہ پارٹی کو انتخابی ناکامی کیوں ہوئی، لہٰذا مستقبل کی حکمت عملی پر کوئی بھی سنجیدہ اور دیانتدارانہ گفتگو اسی حقیقت سے شروع ہونی چاہیے۔

جے ڈی وینس نے انتخابی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن ووٹرز نے مڈٹرم انتخابات میں اپنا حق رائے دہی تو استعمال کیا، لیکن انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے ووٹرز اور قیادت کے درمیان اعتماد اور پالیسی کے حوالے سے فاصلے پیدا ہوئے ہیں۔

امریکی نائب صدر نے انتخابی شکست کی ایک اور وجہ ریپبلکنز کے معاشی بیانیے کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنا معاشی پیغام عوام تک مؤثر اور واضح انداز میں پہنچانے میں ناکام رہی، جس کے باعث ووٹرز کو قائل نہیں کیا جا سکا۔

حالیہ پولنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے والے شہری اب بنیادی طور پر چار مطالبات کر رہے تھے۔ ان میں ایران جنگ کا خاتمہ، مہنگائی پر قابو پانا، امریکا فرسٹ پالیسی کو ترجیح دینا اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات کی پالیسی میں تبدیلی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال کے اوائل میں ایران پر امریکی بمباری کے فیصلے سے قبل جے ڈی وینس نے جنگ میں براہ راست ملوث ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہیں خدشہ تھا کہ امریکا ایک ایسے طویل تنازع میں پھنس سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ریپبلکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں شمار ہوں گے۔ ایسے میں مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران جنگ، معاشی پالیسی اور امریکا کی خارجہ حکمت عملی سے متعلق ان کا مؤقف آئندہ صدارتی سیاست میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 05:33 PM

آخری تدوین: 4 نومبر، 2026

متعلقہ مضامین

 ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی: ٹرمپ
تازہ ترین

ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج قبول کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویوز میں ٹرمپ نے ایران جنگ، مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی اہم وجوہات قرار دیا۔ کابینہ میں تبدیلی کا بھی کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا

Web Desk4 نومبر، 2026
ڈیموکریٹس کا جشن، حکیم جیفریز بولے ’آج امریکہ جیت گیا‘
امریکی وسط مدتی انتخابات

ڈیموکریٹس کا جشن، حکیم جیفریز بولے ’آج امریکہ جیت گیا‘

امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی پر ڈیموکریٹس کا جشن، حکیم جیفریز نے کہا آج امریکہ جیت گیا۔ چک شومر نے سینیٹ کے سیاسی نقشے میں بڑی تبدیلی قرار دے دیا، جبکہ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے چیئرمین کین مارٹن نے اگلا ہدف وائٹ ہاؤس کو قرار دے دیا

Web Desk4 نومبر، 2026
ٹیکساس میں اقتدار کی تبدیلی، گریگ ایبٹ دور کے اربوں ڈالر کے معاہدوں کی جانچ کا امکان
امریکی وسط مدتی انتخابات

ٹیکساس میں اقتدار کی تبدیلی، گریگ ایبٹ دور کے اربوں ڈالر کے معاہدوں کی جانچ کا امکان

ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جینا ہنوجوسا کی کامیابی کے بعد گریگ ایبٹ دور کے 950 ملین ڈالر کے سرکاری معاہدے، کاروباری عطیات، ایلون مسک کی کمپنیوں اور ای پی آئی سی سٹی منصوبے کی تحقیقات کا امکان بڑھ گیا۔ کیا نئی گورنر سابقہ حکومت کی فائلیں کھولیں گی؟

Web Desk4 نومبر، 2026