فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ مسائل بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں تو جنگ کی ضرورت نہیں، ایران اسلام آباد مفاہمی یادداشت کے تحت آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے
اسی موضوع سے پڑھیں
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں تو جنگ کی ضرورت نہیں، اب امریکا کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا بلکہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی۔
ایرانی صدر کے مطابق ایران پر کسی قانونی جواز یا ضابطے کے بغیر حملہ کیا گیا اور ان کے بقول اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں جنگ ایران پر مسلط ہوئی۔
ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے: پزشکیان
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ انتخابات سے پہلے ہو یا بعد میں، ایران کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے بقول جب مسائل بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں تو پھر جنگ کیوں کی جائے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اب امریکا کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔
معاشی مشکلات کا بھی اعتراف
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو معاشی مسائل ضرور درپیش ہیں، تاہم ملک اپنی بقا کیلئے مقابلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پیسے کو اپنی مرضی کے مطابق نہ تو منتقل کر سکتا ہے اور نہ ہی خرچ کرسکتا ہے۔
حوثیوں سے متعلق ایرانی مؤقف
حوثیوں کے اقدامات سے متعلق سوال پر ایرانی صدر نے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں اور وہ ایران سے ہدایات نہیں لیتے۔
یورینیم افزودگی کم کرنے کی پیشکش
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران اپنے یورینیم کے ذخیرے کی افزودگی کی سطح کم کرنے کیلئے تیار ہے۔
مسعود پزشکیان کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور جوہری معاملے پر سفارتی رابطوں کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے بیان میں مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل اور جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔
شائع ہوا: 25 ستمبر، 2026 کو 08:02 AM
آخری تدوین: 25 ستمبر، 2026



