متحدہ عرب امارات کے قرض کی واپسی کے بعد پاکستان زرمبادلہ ذخائر برقرار رکھنے کے لیے تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے

پاکستان نے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3 ارب ڈالر قرض کی مکمل واپسی کے مطالبے کے بعد اپنے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ مالی آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔
( واشنگٹن ڈی سی)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع، بشمول کمرشل بینکس اور دوطرفہ قرض دہندگان، سے مدد حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم تمام آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں”
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس ماہ پہلی بار گزشتہ سات برسوں میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ قرض رول اوور کرنے میں ناکام رہا، جس سے بیرونی مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
27 مارچ تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ فروری کے آخر میں ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے سے قبل پاکستان کے مالی اور زرمبادلہ ذخائر مضبوط تھے اور حکومت اپنے قرضوں کی بروقت ادائیگی کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یورو بانڈز، اسلامی سکوک اور ڈالر میں طے شدہ روپے سے منسلک بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ پانڈا بانڈز کے اجرا کی تیاری بھی جاری ہے۔
پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت جلد تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی اگلی قسط ملنے کی توقع ہے، جو زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔
وزیر خزانہ اس وقت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے عالمی معیشت پر اثرات اہم موضوعات کے طور پر زیر بحث ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 14 اپریل، 2026 کو 02:36 AM
آخری تدوین: 14 اپریل، 2026



