بنی گالہ کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی کو دل کا کوئی مسئلہ نہیں: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بنی گالہ کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی کو دل کا کوئی مسئلہ نہیں اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انہیں ریلیف ملے گا
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بنی گالہ کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا، جبکہ ان کے خیال میں بانی پی ٹی آئی کو دل کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سماء ٹی وی کے پروگرام ’’ندیم ملک لائیو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گزشتہ تین سال میں پی ٹی آئی نے عدالت کا راستہ اختیار نہیں کیا اور صرف ہائیکورٹ تک گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف کا معاملہ مختلف تھا، عام طور پر مریض کو سرکاری ہسپتال بھیجا جاتا ہے۔ جیل ہسپتال میں انجیوگرافی کی سہولت موجود ہے اور ان کے خیال میں بانی پی ٹی آئی کی انجیوگرافی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو کئی مرتبہ پمز ہسپتال لایا گیا اور کسی مریض کو شکایت ہو تو انجیوگرافی کی جاتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی انجیوگرافی کا نتیجہ کلیئر ہے، اس لیے ان کے خیال میں انہیں دل کا مسئلہ نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلے کی وضاحت سامنے آنے کے بعد ہی اس پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر کے مطابق ہسپتال کے جس حصے کو جیل قرار دیا جائے گا وہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ اگر دو روز میں سیکیورٹی انتظامات مکمل نہ ہوئے تو مزید مہلت لی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور سیاسی و عسکری قیادت اس حوالے سے پوری طرح پرعزم ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بنی گالہ کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا، تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ریلیف ملے گا۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے اسٹیبلشمنٹ سے کسی بیک چینل رابطے کی بھی تردید کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی بیک چینل یا سیاسی عمل کا نتیجہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’سیم پیج‘‘ مناسب اصطلاح نہیں اور وہ ’’ہائبرڈ‘‘ نظام کی اصطلاح سے بھی متفق نہیں۔ ان کے مطابق اگر بانی پی ٹی آئی کو ریلیف ملا ہے تو ایسی صورتحال پیدا نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ اس ریلیف سے انکار کردیں۔
بلاول بھٹو زرداری کے اپوزیشن سے رابطوں کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ کوئی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مثبت عمل ہے۔ انہوں نے صوبوں سے متعلق ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم پر بھی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبوں کے حوالے سے کوئی پیشرفت ہونی ہے تو اس کا طریقہ آئین میں موجود ہے اور کوئی ترمیم لائی جانی ہو تو وہ کابینہ میں آئے گی۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 20 اگست، 2026 کو 03:11 AM
آخری تدوین: 20 اگست، 2026



