دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی فرق ختم کرنے کی کوشش ہے، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو مالی حیثیت سے بالاتر ہوکر معیاری تعلیم کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ دانش اسکولوں کا مقصد غریب اور مستحق بچوں کو آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی مالی حیثیت سے طے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر ذہین بچے کو معیاری تعلیم اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ دانش اسکولوں کا بنیادی مقصد غریب اور مستحق خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرکے امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی فرق کم کرنا ہے۔
اسلام آباد میں دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی کامیابیوں پر مبنی دستاویزی فلمیں اور ان کی جدوجہد کی کہانیاں حوصلہ افزا ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ مناسب مواقع ملنے پر محروم طبقات کے بچے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔
شہباز شریف نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں والد کو کھونے کے بعد اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس نے ہمت نہیں ہاری اور تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بننے میں کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم کے مطابق ایسی مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ ذہانت اور صلاحیت کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کے والدین کھیتوں اور کھلیانوں میں سخت موسمی حالات کے باوجود محنت کرتے ہیں، لیکن محدود آمدن کے باعث بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کو وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم رکھنا معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صاحبِ ثروت خاندانوں کے بچے بہترین تعلیمی اداروں اور بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں، جبکہ غریب گھرانوں کے ذہین بچے وسائل نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ جائیں، تو یہ ایک بڑا معاشرتی مسئلہ ہے۔ دانش اسکول اسی فرق کو کم کرنے اور مستحق بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
شہباز شریف نے یاد دلایا کہ پنجاب میں دانش اسکولوں کا منصوبہ 2010 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد دور دراز علاقوں اور غریب خاندانوں کے ذہین بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کے ذریعے بچوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
وزیراعظم نے قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بزرگوں نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا جہاں انصاف، میرٹ اور محنت کو اہمیت حاصل ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر بچے کو اس کے خاندانی پس منظر سے بالاتر ہوکر آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔
تقریب میں طلبہ، والدین، اساتذہ، وفاقی وزرا، سفارت کاروں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے دانش اسکولوں کو محروم طبقات کے بچوں کے لیے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کے ذریعے نہ صرف ان بچوں کی زندگیاں بدلی جاسکتی ہیں بلکہ وہ ملک کی ترقی اور انسانیت کی خدمت میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
شائع ہوا: 18 اکتوبر، 2026 کو 01:09 PM
آخری تدوین: 18 اکتوبر، 2026



