گورنر راج آخری آپشن ہوگا، حکومت تمام آئینی و قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا میں گورنر راج سمیت تمام آئینی و قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر راج آخری آپشن ہوگا، جبکہ اسلام آباد کے تحفظ اور صوبے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا کی صورتحال کے پیش نظر گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے، تاہم گورنر راج آخری آپشن ہوگا اور حکومت کوشش کر رہی ہے کہ نوبت وہاں تک نہ پہنچے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کوئی راستہ باقی نہ بچا تو دارالحکومت کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ہر دو تین ماہ بعد لشکر کشی کے ذریعے دارالحکومت پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اگر اسلام آباد پر حملہ کیا گیا تو حکومت کو دارالحکومت کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ گورنر راج کے حوالے سے حتمی فیصلہ حالات اور دستیاب آپشنز کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ حکومت گورنر راج سمیت تمام آئینی و قانونی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ عوام موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے سیاسی شعور رکھتے ہیں۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور طالبان کے درمیان روابط کے حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن طالبان کی اتحادی نہیں بنی، جبکہ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت دہشت گردی سے لاتعلقی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کی زد میں ہے جبکہ وزیراعلیٰ اور کابینہ سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہیں۔ اہم فیصلے کرنے کا وقت آچکا ہے، پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اور ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو مزید صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
شائع ہوا: 7 اکتوبر، 2026 کو 01:36 PM
آخری تدوین: 7 اکتوبر، 2026



