گورنر راج اور ایمرجنسی ناگزیر تھی، خیبرپختونخوا کو مزید نقصان سے بچایا: شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا سے خطاب، دہشت گردی، افغانستان سے واپسی، 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز، پولیس کی خالی آسامیوں اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ پر اہم انکشافات
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان سے 2019 اور 2020 میں دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، بروقت گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام، پولیس اور فوج نے بے مثال قربانیاں دیں، تاہم گزشتہ 13 سال میں صوبے کی ترقی اور عوامی مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 800 ارب روپے ملے، لیکن پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کو بھی مؤثر طور پر مضبوط نہیں بنایا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ناکامی کے بعد ملک، عوام اور معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔
شائع ہوا: 31 اکتوبر، 2026 کو 09:59 AM
آخری تدوین: 31 اکتوبر، 2026



