گورنر راج یا ایمرجنسی؟ وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی پر اہم اجلاس طلب کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر اہم اجلاس طلب کرلیا۔ ذرائع کے مطابق 12 اضلاع میں ایمرجنسی، ضم شدہ قبائلی اضلاع اور اہم اختیارات وفاق کے استعمال میں دینے کی تجاویز پر غور کا امکان ہے۔ کیا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ ہوگا؟ تفصیلات جانیے
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آج اہم اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سمیت اہم فیصلوں پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوگا، جس میں اہم وفاقی وزراء اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
اجلاس کے دوران وزارت داخلہ کے حکام خیبرپختونخوا میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ ہونے کی صورت میں وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل کی جائے گی، جس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرسکتے ہیں۔
اس سے قبل ذرائع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان تجاویز میں صوبے میں بعض اہم اختیارات وفاق کے استعمال میں دینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 232 سے 234 تک کی روشنی میں مختلف قانونی اور آئینی پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری کا امکان ہے۔
تاہم اجلاس کے حتمی فیصلوں اور ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
شائع ہوا: 10 اکتوبر، 2026 کو 04:55 AM
آخری تدوین: 10 اکتوبر، 2026



