ایچ آئی وی سرنج سے پھیلنے کے شواہد سامنے نہیں آئے، ڈریپ کا مؤقف

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے سی ای او ڈاکٹر عبیداللہ خان نے کہا ہے کہ ملک میں ایچ آئی وی کے سرنج کے ذریعے پھیلاؤ کے واضح شواہد تاحال سامنے نہیں آئے۔
(اسلام آباد)میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبیداللہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک، دو اور پانچ ایم ایل سرنجز آٹو ڈسپوز ایبل ہیں، تاہم 10 سی سی سرنج ابھی تک آٹو ڈسپوز ایبل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزارت صحت اس حوالے سے پابندی عائد کرتی ہے تو اس پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
سی ای او ڈریپ نے بتایا کہ سرنجز کے استعمال اور ممکنہ خطرات سے متعلق ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، تاہم اب تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ملک میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ سرنجز کے ذریعے ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں انجیکشن کا استعمال بہت زیادہ ہے، اور ہر سال تقریباً ڈیڑھ سے دو ارب سرنجز استعمال کی جاتی ہیں، جس کے باعث احتیاطی تدابیر اور مؤثر ریگولیشن کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق محفوظ طبی طریقہ کار، آٹو ڈسپوز ایبل سرنجز کا استعمال اور آگاہی مہمات بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 3 مئی، 2026 کو 06:00 PM
آخری تدوین: 3 مئی، 2026



