ایران میں مذاکرات اور جنگ کے حامی دو دھڑے موجود ہیں، جے ڈی وینس کا دعویٰ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر ایک حلقہ مذاکرات کا حامی ہے جبکہ دوسرا سخت گیر گروپ کشیدگی جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایران امریکا تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا بھی ذکر کیا
(واشنگٹن) امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر دو مختلف سوچ رکھنے والے حلقے موجود ہیں، جن میں سے ایک مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہش مند ہے جبکہ دوسرا سخت گیر گروپ جنگ اور محاذ آرائی جاری رکھنے کے حق میں ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، تاہم وہ پرامید ہیں کہ صورتحال کا نتیجہ امریکی عوام کے مفاد میں نکلے گا۔
جے ڈی وینس نے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی اور مذاکراتی عمل پر بھی گفتگو کی۔ وہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹس کے مطابق ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے آئندہ چند روز میں پاکستان کے ممکنہ دورے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
محمد باقر قالیباف تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کر چکے ہیں، جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق بعد ازاں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی اور تصادم کے باعث یہ مفاہمتی یادداشت عملی طور پر غیر مؤثر ہو گئی۔
شائع ہوا: 6 اگست، 2026 کو 05:48 AM
آخری تدوین: 6 اگست، 2026



