ایران کی زمینی تجارتی گزرگاہوں کی نگرانی کے لیے امریکی ٹاسک فورس آئرن گیٹ قائم

امریکی سینٹ کام نے ایران کی زمینی تجارتی گزرگاہوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے سامان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے ٹاسک فورس آئرن گیٹ قائم کر دی۔ 20 فوجی اور سویلین اہلکاروں پر مشتمل ٹاسک فورس ایران کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور اس کی آمدن کے ذرائع محدود کرنے کے لیے کام کرے گی
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کی زمینی تجارتی گزرگاہوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے نئی ٹاسک فورس ’’آئرن گیٹ‘‘ قائم کر دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ٹاسک فورس کے قیام کی ہدایت ایڈمرل بریڈ کوپر نے دی ہے، جس کا مقصد ایران کو جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور پابندیوں کے شکار سامان کی ترسیل روکنا ہے۔
ٹاسک فورس میں تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہوں گے، جبکہ اس کا ہیڈکوارٹر امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں قائم کیا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق آئرن گیٹ امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر ایران کے فوجی ذخائر کی دوبارہ تکمیل روکنے اور اس کی غیر قانونی آمدن کے ذرائع محدود کرنے کے لیے کام کرے گی۔
ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی خام تیل کی برآمدات رک چکی ہیں۔ نئی ٹاسک فورس کے ذریعے ایران کو جدید فوجی سازوسامان کی فراہمی روکنے کی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔
شائع ہوا: 7 نومبر، 2026 کو 05:10 PM
آخری تدوین: 7 نومبر، 2026



