امریکا ایران جنگ: ایرانی شہریوں کی ملک بدری کے لیے خفیہ مذاکرات کا انکشاف
محمد نعیم اختر6 نومبر، 2026
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے ایرانی حکام سے ملک بدری کے لیے خفیہ مذاکرات کا انکشاف، عدالت نے ایرانی شہریوں کی ڈی پورٹیشن سے قبل نوٹس دینا لازمی قرار دے دیا
واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی شہریوں کو امریکا سے بے دخل کرنے کے لیے ایرانی حکام سے خفیہ مذاکرات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عدالتی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت ایرانی شہریوں کو کسی تیسرے ملک کے ذریعے ڈی پورٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ اس مقصد کے لیے جنگ کے دوران بھی ایرانی حکام سے رابطے جاری رہے تاکہ سفری دستاویزات حاصل کی جا سکیں۔
معاملے پر سماعت کرتے ہوئے امریکی ڈسٹرکٹ جج آنا رئیس نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران واپس بھیجے جانے والے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ عدالت نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ ملک بدری کے حتمی منصوبے سے 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جائے اور ڈی پورٹیشن سے پانچ روز قبل تحریری نوٹس دیا جائے۔
یہ معاملہ ایک جاری مقدمے سے سامنے آیا ہے، جس میں امریکی امیگریشن حکام پر ایرانی پناہ گزینوں کی خفیہ معلومات ایرانی حکومت کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ حکومت صرف قانونی ملک بدری کے احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 6 نومبر، 2026 کو 04:16 AM
آخری تدوین: 6 نومبر، 2026



