ایران کا دعویٰ: امریکا وعدوں پر عملدرآمد کے لیے دوبارہ تیار، آبنائے ہرمز کے لیے نئے بحری راستے پر اتفاق

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے وعدوں پر دوبارہ عملدرآمد کے اشارے ملے ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں نئے عارضی بحری راستے کے قیام پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے
(تہران) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اپنے وعدوں پر دوبارہ عملدرآمد کے لیے تیار ہو گیا ہے، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں نئے عارضی بحری راستے کے قیام پر اصولی اتفاق رائے بھی ہو گیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق نئے بحری راستے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جو زیادہ تر ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئے راستے پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد موجودہ عارضی بحری راستے بند کر دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ امریکی وعدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔
کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان اس معاملے پر تین ہفتوں تک مذاکرات جاری رہے، جن کے نتیجے میں نئے بحری راستے کے منصوبے پر اتفاق ہوا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر دوبارہ عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی پیش رفت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں، جس پر آئندہ چند روز میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
شائع ہوا: 6 اگست، 2026 کو 05:45 AM
آخری تدوین: 6 اگست، 2026



