مولانا فضل الرحمٰن کے اہلخانہ اور قریبی رفقاء کے خلاف مبینہ ٹیکس چوری کی شکایت درج

مولانا فضل الرحمٰن کے اہلخانہ اور قریبی رفقاء کے خلاف مبینہ ٹیکس چوری کی شکایت ایف بی آر میں جمع، پانچ افراد کے اثاثوں، بینک اکاؤنٹس اور ذرائع آمدن کی تحقیقات کا مطالبہ
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے اہلخانہ اور قریبی رفقاء کے خلاف مبینہ ٹیکس چوری اور آمدن چھپانے سے متعلق شکایت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جمع کرا دی گئی ہے، جس میں پانچ افراد کے اثاثوں، بینک اکاؤنٹس اور ذرائع آمدن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
شکایت میں جے یو آئی کے ایک سینیٹر، لطف الرحمٰن، ضیاء الرحمٰن، اسعد محمود اور ابرار احمد کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ پانچوں افراد کے ملکی و غیرملکی اثاثوں، بینک اکاؤنٹس، مالی لین دین اور ذرائع آمدن کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا تعین کیا جا سکے۔
شکایت کے مطابق جے یو آئی کے سینیٹر کے ملکی اور غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس، لطف الرحمٰن کے بینک اکاؤنٹس اور کاروباری سرگرمیوں جبکہ ضیاء الرحمٰن کے اکاؤنٹس میں مبینہ طور پر موجود غیر واضح رقوم کی تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے۔
اسی طرح اسعد محمود کے بینک اکاؤنٹس اور ابرار احمد کے ٹریول اینڈ ٹورز کے کاروبار سے متعلق مالی معاملات کی جانچ پڑتال کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
شکایت میں فلاحی، تعلیمی اور کاروباری اداروں سے منسلک مالی لین دین کی چھان بین کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے متعلقہ افراد کے اثاثوں، ٹیکس گوشواروں اور بینک ٹرانزیکشنز کا تقابلی جائزہ لینے کی درخواست کی ہے۔
تاہم شکایت میں عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق اور ایف بی آر کی جانب سے کسی حتمی تحقیقات یا کارروائی کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے ان الزامات کو ثابت شدہ حقائق کے بجائے مبینہ شکایات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
شائع ہوا: 5 نومبر، 2026 کو 06:28 AM
آخری تدوین: 5 نومبر، 2026



