امریکی تاریخ میں پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب

امریکی وسط مدتی انتخابات 2026 میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہو گئیں۔ کیشا لانس باٹمز، جینا ہنوسا اور ڈیب ہالینڈ نے بھی گورنر انتخابات میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں
واشنگٹن: امریکی وسط مدتی انتخابات 2026 میں خواتین نے تاریخ رقم کر دی، پہلی مرتبہ 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہو گئی ہیں، جبکہ مختلف ریاستوں میں خواتین نے گورنر کے انتخابات میں بھی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خواتین امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے امریکی کانگریس میں یہ ایک نیا تاریخی سنگ میل ہے۔

انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی نمایاں خواتین میں نیویارک سے الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، مشی گن سے رشیدہ طلیب اور مینیسوٹا سے الہان عمر شامل ہیں۔
امریکی ریاستوں میں بھی خواتین نے کئی تاریخی کامیابیاں اپنے نام کیں۔ جارجیا سے کیشا لانس باٹمز امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں، جبکہ ٹیکساس سے جینا ہنوسا ریاست کی پہلی لاطینی خاتون گورنر بن گئیں۔
اسی طرح نیو میکسیکو سے ڈیب ہالینڈ نے کامیابی حاصل کرکے امریکا کی پہلی مقامی امریکی (Native American) خاتون گورنر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
خواتین کی سیاسی نمائندگی پر کام کرنے والے ادارے سینٹر فار امریکن ویمن اینڈ پولیٹکس (CAWP) کے مطابق ابتدائی انتخابی نتائج کے تحت امریکی ایوان نمائندگان میں کم از کم 100 ڈیموکریٹ خواتین جبکہ مجموعی طور پر کانگریس میں کم از کم 116 ڈیموکریٹ خواتین خدمات انجام دیں گی۔
ادارے کے مطابق 2025 میں ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ خواتین کی تعداد 95 تھی، جو 2027 کے لیے بڑھ کر کم از کم 100 ہو گئی ہے۔
امریکی انتخابات کے نتائج نے خواتین اور مختلف نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والی امیدواروں کی سیاسی نمائندگی میں اضافے کی نئی مثال قائم کی ہے۔ تاہم انتخابی نتائج کی حتمی گنتی کے ساتھ یہ اعداد و شمار مزید تبدیل ہو سکتے ہیں۔
شائع ہوا: 5 نومبر، 2026 کو 06:15 AM
آخری تدوین: 5 نومبر، 2026



