کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کارکنوں کو جان کے خطرات، پولیس کی وارننگ
قرةالعَین حیدر
کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم سے وابستہ تین کارکنوں کو پولیس نے ’’ڈیوٹی ٹو وارن‘‘ نوٹس جاری کرتے ہوئے جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا۔ پولیس نے خطرات کو قابلِ اعتبار، سنگین اور فوری قرار دیا، جبکہ کارکنوں نے وٹنس پروٹیکشن پروگرام کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے خالصتان ریفرنڈم کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا
اوٹاوا: کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم سے وابستہ تین کارکنوں کو کینیڈین پولیس نے جان کو لاحق ممکنہ خطرات کے حوالے سے ’’ڈیوٹی ٹو وارن‘‘ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ان خطرات کو قابلِ اعتبار، سنگین اور فوری نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق برٹش کولمبیا میں منجندر سنگھ اور نریندر سنگھ رندھاوا جبکہ اونٹاریو میں کینیڈا کے خالصتان ریفرنڈم کوآرڈینیٹر اندر جیت سنگھ گوسل کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

کینیڈین پولیس نے خالصتان ریفرنڈم سے وابستہ رہنماؤں کو وٹنس پروٹیکشن پروگرام میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی، تاہم کارکنوں نے مبینہ طور پر یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گُرپت ونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے انتباہات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کینیڈا میں سکھ کارکنوں کو مبینہ طور پر بھارتی خطرات کا سامنا ہے۔

گُرپت ونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ دھمکیوں اور خطرات کے باوجود خالصتان ریفرنڈم کی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔ تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے بھارتی حکومت کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے۔

قرةالعَین حیدر
قرةالعَین حیدر, وائسز آف امریکا کیلئے کینیڈا میں بطور نمائندہ خصوصی کے فرائض انجام دے رہی ہیں
شائع ہوا: 19 اگست، 2026 کو 06:02 PM
آخری تدوین: 19 اگست، 2026



