امریکی مڈٹرم انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ کو ایوانِ نمائندگان میں دھچکا، ڈیموکریٹس کو برتری حاصل

امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ کا نتائج تسلیم کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جن کے مطابق مختلف اہم انتخابی مقابلوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کو ریپبلکن امیدواروں پر برتری حاصل ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 133 امیدواروں کو برتری حاصل ہے، جبکہ ریپبلکن امیدوار 76 نشستوں پر آگے ہیں۔ 435 ارکان پر مشتمل ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔
سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس آگے
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہوئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ڈیموکریٹس 12 نشستوں پر آگے ہیں، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 46 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ریپبلکنز کو 6 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور ان کے ارکان کی تعداد 37 بتائی جا رہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں 100 نشستیں ہیں، جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
انتخابی نتائج پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔
ٹرمپ کے مطابق ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں بعض معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔
تین امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیا
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایک منفرد واقعہ بھی پیش آیا، جہاں تین امریکی خلابازوں نے خلا سے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ان خلابازوں انیل، لیوک اور جیسیکا نے ناسا کے خلائی اسٹیشن سے الیکٹرانک ووٹ ہیوسٹن کے خلائی مرکز کو ارسال کیے۔
خلابازوں کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل میں حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کا حق خلا میں رہتے ہوئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مختلف ریاستوں میں پولنگ کا آغاز
امریکا کی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے پولنگ کا آغاز ہوا، جبکہ نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ صبح 6 بجے شروع ہوئی۔
مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل اور ووٹوں کی گنتی جاری رہنے کے باعث نتائج پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔
امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی شرکت بھی خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مختلف ریاستوں میں مسلم امیدوار اپنی جماعتوں کے امیدواروں اور سیاسی حریفوں کے مدمقابل ہیں۔
ریاست مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب ایک بار پھر انتخابی میدان میں موجود ہیں، جہاں ان کا مقابلہ چار امیدواروں سے ہے۔
اسی طرح ریاست کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔
دوسری جانب عام انتخابات میں رشیدہ طلیب کے مدمقابل ریپبلکن امیدوار جیمز ہوپر سمیت تین دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
امریکی سیاست میں مسلم امیدواروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے تناظر میں یہ انتخابی مقابلے بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 05:00 AM
آخری تدوین: 4 نومبر، 2026



