ایران پر حملے کے معاملے پر اختلافات، نیتن یاہو کی آرمی چیف کو ہٹانے پر غور کی اطلاعات

ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت پر اسرائیلی سیاسی قیادت اور فوجی سربراہ کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تو آرمی چیف ایال زمیر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے برطرفی سے متعلق ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے
اسرائیلی اخبار ہارٹز سمیت مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، تنازع کی بنیادی وجہ ایران سے متعلق ممکنہ فوجی اقدام اور اس کے وقت پر اختلاف ہے۔ یہ معاملہ اسرائیل میں انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جس سے فوجی حکمت عملی اور سیاسی فیصلوں کے باہمی تعلق پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف ایسی کارروائی کی مخالفت کی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے یا کشیدگی میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ ان کے تحفظات میں یہ امکان بھی شامل بتایا گیا کہ تہران اسرائیلی فوجی تیاریوں کو حملے کی تیاری سمجھ کر پیشگی کارروائی کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے مبینہ طور پر فوری اقدام کی حمایت کی۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موساد کے بعض سینئر حکام نے مجوزہ کارروائی کے وقت اور اس کے انتخابی نتائج پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے تھے۔
نیتن یاہو کی ممکنہ نئی حکومت اور آرمی چیف کا مستقبل
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اگر نیتن یاہو انتخابات کے بعد دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ایال زمیر کو عہدے سے ہٹانے کا امکان زیر بحث آ سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
نیتن یاہو کے دفتر نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان اختلافات اور برطرفی سے متعلق خبریں درست نہیں۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ایران کے معاملے پر سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
اس صورتحال میں اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ اسرائیلی قیادت ایران سے متعلق آئندہ حکمت عملی میں فوجی خطرات، علاقائی کشیدگی اور انتخابی ماحول کو کس طرح ملحوظ رکھتی ہے۔ فی الحال ایال زمیر کی برطرفی محض میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والا امکان ہے، کوئی مصدقہ فیصلہ نہیں۔
شائع ہوا: 27 اکتوبر، 2026 کو 04:41 AM
آخری تدوین: 27 اکتوبر، 2026



