وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 نومولود سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار

W
Web Desk
27 اگست، 2026
سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 نومولود سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ غمزدہ والدین نے ہسپتال کی سہولیات اور انتظامی امور پر بھی سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد: پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ معصوم بچوں کی موت نے 14 خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیا، ہر طرف سوگ اور افسردگی کی کیفیت ہے۔

نومولود بچوں کے والدین اور اہل خانہ اپنے پیاروں کی اچانک جدائی پر شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ راولپنڈی میں جاں بحق ہونے والی ایک بچی کے والدین کا کہنا تھا کہ چاہے کتنی ہی انکوائریاں کرلی جائیں اور ذمہ داروں کو سزائیں بھی مل جائیں، ان کے آنگن کا پھول دوبارہ نہیں کھل سکے گا۔

ایک غمزدہ والدہ نے بتایا کہ چار سال کے انتظار کے بعد ان کے آنگن میں خوشی آئی تھی، لیکن چند ہی دن بعد ان کا بچہ ہمیشہ کے لیے مٹی تلے جا سویا۔

ایک بچے کے والد نے رنج و الم کے عالم میں کہا کہ وہ اس سانحے پر کیا شکوہ کریں، انہوں نے اللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔

والدین نے ہسپتال کی سہولیات پر سوال اٹھا دیے

راولپنڈی کے علاقے شمس آباد سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کے والد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بیٹی بہت دعاؤں اور منتوں کے بعد ملی تھی، لیکن صرف تین دن بعد وہ دنیا سے رخصت ہوگئی۔

غمزدہ والد کا کہنا تھا کہ یہ ایسا غم ہے جسے برداشت کرنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے ہسپتال کی سہولیات اور انتظامی صورتحال پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے ہسپتال کی سہولیات ناکافی ہیں، علاج معالجے کی مناسب سہولت بھی دستیاب نہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ عوام کی مشکلات کا احساس کیا جائے اور صحت کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ذمہ داروں کے تعین، شفاف تحقیقات اور ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 27 اگست، 2026 کو 03:32 AM

آخری تدوین: 27 اگست، 2026

متعلقہ مضامین