وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، علاقائی کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور

وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی نیویارک میں ملاقات، پاک ایران تعلقات، علاقائی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت سمیت اہم امور پر گفتگوکی
اسی موضوع سے پڑھیں
نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور دیرپا امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں جاری طویل تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کو دیرپا امن کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) پر عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ سرکاری بیان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور پاکستان ایران تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات
اس سے قبل نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل روابط کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ دونوں فریقوں نے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم کا صحافیوں سے گفتگو میں مؤقف
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور ایرانی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات اچھی رہی۔ وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا اور اسلام آباد معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون کی آمادگی ظاہر کی۔

وزیراعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی مقام میں بہتری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت معیشت اور سفارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وزیراعظم کا مؤقف
وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے کہا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے اور کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کے اصول پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستانی حکومت پہلے بھی اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ اس کا مقصد کسی ریاست کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور علاقائی امن و سلامتی کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان علاقائی کشیدگی میں کمی، سفارتی رابطوں کے فروغ اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
شائع ہوا: 25 ستمبر، 2026 کو 04:07 AM
آخری تدوین: 25 ستمبر، 2026



