امریکہ سے درجنوں افغان شہریوں کی ملک بدری کی تیاریاں مکمل
محمد نعیم اختر1 نومبر، 2026
امریکہ درجنوں افغان تارکینِ وطن کو خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان کے راستے افغانستان ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ زیرِ حراست افراد میں امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان اہلکاروں کے رشتہ دار بھی شامل ہونے کا دعویٰ ہے
امریکی حکام نے درجنوں افغان تارکینِ وطن کو پاکستان کے راستے افغانستان ڈی پورٹ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ زیرِ حراست افراد میں مبینہ طور پر ایسے افغان اہلکاروں کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکی فوج کے ساتھ کام کیا تھا۔
عدالتی دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی حکام آئندہ ہفتے کے آغاز میں خصوصی پرواز کے ذریعے افغان شہریوں کو پہلے پاکستان منتقل اور بعد ازاں افغانستان ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
متعدد افغان شہری اس وقت امریکی ریاست لوزیانا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے حراستی مراکز میں موجود ہیں۔ ایک زیرِ حراست افغان شہری کی اہلیہ کے مطابق، ان کے شوہر کو پنسلوانیا سے لوزیانا منتقل کیا گیا ہے اور انہیں ملک بدری کا نوٹس بھی موصول ہوا ہے۔
افغان شہریوں کی معاونت کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے سربراہ شان وان ڈائیور نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان واپسی پر ان افراد کو طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائیوں اور سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ہر ملک کو اپنی سرحدوں اور امیگریشن نظام کے انتظام کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ ڈیموکریٹک رکن کانگریس اسکاٹ پیٹرز نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرنے والے افغان شہریوں اور ان کے خاندانوں کی ملک بدری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 1 نومبر، 2026 کو 03:15 AM
آخری تدوین: 1 نومبر، 2026



