حکومت مثبت پیش رفت کرے تو لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے، پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی

پی ٹی آئی سیاسی و کور کمیٹی اجلاس میں حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق، مثبت پیش رفت کی صورت میں لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کی تجویز، عمران خان سے ملاقات اور ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر بھی اہم مشاورت
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مذاکرات جاری رکھنے اور حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت کی صورت میں لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے پر غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بیرسٹر گوہر نے حکومتی مذاکرات سے متعلق ارکان کو بریفنگ دی، جبکہ سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا مکمل منصوبہ دکھائی دے رہا ہے۔
اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت نے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے کی حمایت کی۔ ارکان کی رائے تھی کہ حکومت مثبت پیش رفت کرتی ہے تو لانگ مارچ ختم کرنے کے بجائے اس کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض ارکان نے تجویز دی کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہو جائے تو کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔ بعض ارکان کی رائے تھی کہ اس ملاقات میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
اجلاس میں مذاکرات کے دوران میڈیا پر بیانات نہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا، تاہم بعض ارکان نے رانا ثنا اللہ اور شیری رحمان کے میڈیا بیانات پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی کی جانب سے مذاکرات کے دوران دہشت گردی سے متعلق بریفنگ اور خیبرپختونخوا حکومت کے بارے میں دیے گئے بیانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان روابط برقرار رہنے چاہئیں۔
اجلاس میں بعض ارکان نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے کے آپشن پر غور کیا جائے۔
واضح رہے کہ اجلاس کی یہ تفصیلات ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔
شائع ہوا: 3 اکتوبر، 2026 کو 08:03 AM
آخری تدوین: 3 اکتوبر، 2026



