انڈیانا خالصتان ریفرنڈم: شملہ کو خالصتان کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان
محمد نعیم اختر
انڈیاناپولس میں خالصتان پنجاب آزادی ریفرنڈم کے دوران سکھ فار جسٹس کے گُرپتونت سنگھ پنوں نے شملہ کو مجوزہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف خالصتان کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کیا۔ پنوں نے بھارت پر سکھوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور پنجاب میں منشیات، قرض اور آبادیاتی دباؤ کی پالیسیوں کے الزامات عائد کیے۔ سکھ فار جسٹس کے مطابق ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ 18 اکتوبر کو البرٹا، کینیڈا میں ہوگا۔
انڈیاناپولس: امریکی ریاست انڈیانا کے شہر انڈیاناپولس میں منعقدہ خالصتان پنجاب آزادی ریفرنڈم کے دوران سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گُرپتونت سنگھ پنوں نے شملہ کو مجوزہ ’’ڈیموکریٹک ریپبلک آف خالصتان‘‘ کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کیا۔

ریفرنڈم کے اختتام پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے گُرپتونت سنگھ پنوں نے خالصتان کا نقشہ بھی جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکھ فار جسٹس خالصتان کے قیام کے لیے پرامن اور بیلٹ کے ذریعے جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے۔

پنوں نے بھارت کی حکومت پر سکھوں کے خلاف مبینہ نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سکھ برادری کو اپنے مذہب اور خاندان کے دفاع کا قانونی حق حاصل ہے۔
انہوں نے نئی دہلی پر پنجاب کے خلاف ’’تین محاذوں پر جنگ‘‘ کی حکمت عملی اپنانے کا الزام بھی عائد کیا، جس میں ان کے مطابق منشیات، قرض اور آبادیاتی دباؤ شامل ہیں۔

پنوں کا دعویٰ تھا کہ منشیات کے باعث پنجاب کے نوجوان متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ زرعی قرضوں اور مالی مشکلات کے نتیجے میں سکھ کسان خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔
سکھ فار جسٹس کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ 18 اکتوبر کو کینیڈا کے صوبے البرٹا میں منعقد ہوگا۔
تقریب کے دوران گُرپتونت سنگھ پنوں نے ہردیپ سنگھ نجر، تلوِندر سنگھ پرمار اور لکھبیر سنگھ روڈے کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ خالصتان تحریک اور اس کے مجوزہ نقشے کے حوالے سے بھارت کا مؤقف اس سے مختلف ہے، جبکہ ریفرنڈم کو بھارتی حکومت مسترد کرتی رہی ہے۔

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 17 اگست، 2026 کو 12:16 PM
آخری تدوین: 17 اگست، 2026



