پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات کو تجارت اور سرمایہ کاری نئی جہت دے سکتی ہے، رومانیہ سفیر
زاہد فاروق ملک30 اکتوبر، 2026
پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، زراعت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں
اسلام آباد: پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط دوستانہ تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے دورے کے موقع پر میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک قابلِ تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت، تعلیم اور صنعتی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 156 ملین ڈالر ہے، جس میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ رومانیہ پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے یورپی منڈیوں تک رسائی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکو نے دفاعی تعاون، تعلیمی تبادلوں اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خدمات کو سراہا۔
اس موقع پر صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ اور فنانس سیکرٹری عابد عباسی سمیت سینئر صحافیوں نے رومانیہ کے سفیر کا استقبال کیا۔ سفیر نے این پی سی کے لان میں پودا بھی لگایا۔
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافت، تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کے ذریعے پاکستان اور رومانیہ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

زاہد فاروق ملک پاکستان کے ممتاز سینئر صحافی، کالم نگار اور میڈیا ایگزیکٹو ہیں۔ وہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اس وقت وائسز آف امریکا کے بیورو چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شائع ہوا: 30 اکتوبر، 2026 کو 03:37 AM
آخری تدوین: 30 اکتوبر، 2026



