ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کر دیا، معاہدے کی امید ظاہر


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر مجوزہ حملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے ساتھ جلد معاہدہ ہو گیا تو فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ فی الحال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس فیصلے کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے مشروط قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جلد کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بھی اس معاملے پر امریکا کے مؤقف کی حمایت کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک نے امریکا سے ممکنہ حملہ روکنے کی درخواست کی ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔
امریکی صدر کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کا مؤثر حل بھی شامل ہوگا۔
تاہم ایران کی جانب سے ٹرمپ کے ان دعوؤں یا مجوزہ معاہدے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاہدے کی تفصیلات بھی ابھی تک عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔

شائع ہوا: 2 اگست، 2026 کو 03:04 AM
آخری تدوین: 2 اگست، 2026



