وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

لاہور سیشن عدالت کا فیصلہ: میشا شفیع کو علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

W
Web Desk
31 مارچ، 2026
لاہور سیشن عدالت کا فیصلہ: میشا شفیع کو علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

عدالت نے قرار دیا کہ میشا شفیع اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہیں، 8 سال بعد ہتکِ عزت کیس کا فیصلہ سنادیا گیا

لاہور کی سیشن عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج اصف حیات نے علی ظفر کے ہتکِ عزت دعوے پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پیش کیے گئے شواہد کے مطابق میشا شفیع اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔

علی ظفر نے 2018 میں میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میشا شفیع نے جھوٹے الزامات لگا کر ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ علی ظفر کی جانب سے عدالت سے 100 کروڑ روپے ہرجانے کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ کیس تقریباً آٹھ سال تک زیر سماعت رہا، جس دوران علی ظفر، میشا شفیع سمیت دیگر گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور وکلا نے تفصیلی جرح کی۔ شواہد مکمل ہونے کے بعد بھی فریقین کے وکلا کی جانب سے کئی ماہ تک دلائل دیے جاتے رہے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

عدالت نے آج محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

علی ظفر کے وکیل عمر طارق گل نے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میشا شفیع کا مؤقف تھا کہ انہوں نے عوامی مفاد میں آواز اٹھائی، تاہم عدالت نے آج اس مؤقف کو درست قرار نہیں دیا اور علی ظفر کے حق میں فیصلہ سنایا۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 31 مارچ، 2026 کو 07:05 PM

آخری تدوین: 31 مارچ، 2026

متعلقہ مضامین