امریکہ: ہوم لینڈ سکیورٹی کے 40 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیٹا لیک ہونے کا دعویٰ
محمد نعیم اختر29 اکتوبر، 2026
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے 40 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیٹا لیک ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ مبینہ طور پر نام، فون نمبر، ای میل اور حساس عہدوں سے متعلق معلومات افشا ہوئیں، تاہم مکمل ڈیٹا کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کے 40 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیٹا لیک ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، مبینہ طور پر افشا ہونے والی معلومات میں ملازمین کے نام، فون نمبر، ای میل پتے، عہدے اور ذمہ داریوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
ڈیٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور دیگر اہم اداروں کے اہلکاروں کی معلومات بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ڈیٹا لیک کرنے والے گروہ نے مبینہ طور پر Okta سائن اِن سروس کے ذریعے معلومات تک رسائی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم Okta کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اپنے نظام یا ڈیٹا کے متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ رائٹرز بھی مکمل ڈیٹا کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

تاحال امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعے کے ممکنہ سکیورٹی اثرات کا تعین ہونا باقی ہے۔

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 29 اکتوبر، 2026 کو 04:14 AM
آخری تدوین: 29 اکتوبر، 2026



