جے ڈی وینس کا ایران کو خط، دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کا امکان

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کو خط بھیج دیا۔ عباس عراقچی نے سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے ممکنہ امریکی حملے پر جوابی کارروائی کی وارننگ دے دی
واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی کوششیں سامنے آئی ہیں، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط ارسال کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ایک اور موقع دے رہا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی نائب صدر کے خط میں ممکنہ مذاکرات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، تاہم اس میں کسی حتمی امن معاہدے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران کے سخت گیر رہنماؤں کے ساتھ براہ راست بات چیت زیادہ بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خط بھیجنے کی ہدایت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فوجی دباؤ کے ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود سفارتی کوششیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والا رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ ایسے ممکنہ درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں جس سے کشیدگی کم کرنے اور مزید فوجی کارروائی سے بچنے کی راہ نکل سکے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے خلیجی ممالک کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بعض سفارت خانوں سے سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانے، حساس فوجی اڈوں سے اہلکاروں کی منتقلی اور اسرائیل کو اضافی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔
ایران کا سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کا اعلان
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ایک اور موقع دے رہا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ ایرانی حکام ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ پیش کی جانے والی تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایک سات روزہ منصوبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس پر عمل درآمد ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں یقینی بنانے کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ممکنہ امریکی حملے پر ایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ
ادھر ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔
رپورٹ میں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے منسوب بیان کے مطابق ایران امریکی مفادات سے وابستہ تنصیبات، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنانے پر غور کر سکتا ہے۔

امریکا کی جانب سے مبینہ سفارتی رابطے اور ایران کی طرف سے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے خدشات برقرار ہیں۔
تاہم ممکنہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کے مؤقف میں ہم آہنگی، ثالثی کی کوششوں اور فوجی کشیدگی میں کمی پر ہوگا۔ فی الحال کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات کی باضابطہ تاریخ کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
شائع ہوا: 29 اکتوبر، 2026 کو 04:55 AM
آخری تدوین: 29 اکتوبر، 2026



