وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر جواب دینے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے: سعودی ولی عہد

W
Web Desk
1 اکتوبر، 2026
کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر جواب دینے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے: سعودی ولی عہد

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوشش جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر جواب دیا جائے گا

ریاض: سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو درپیش کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا، تاہم مملکت علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد بن سلمان نے یمن کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے افراتفری، تباہی اور خطے کو دھمکانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو پورے ملک میں اپنی اتھارٹی قائم کرنے میں مدد جاری رکھے گا۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب سوڈان کی وحدت، استحکام اور اس کے قانونی اداروں کے تحفظ کی حمایت بھی جاری رکھے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر خطے میں کشیدگی ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، تاہم مملکت کو درپیش ہر خطرے یا حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

مکہ دفاعی معاہدے کا ذکر

محمد بن سلمان نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ خطے کو بڑھتے ہوئے تنازعات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مسلح افواج اور انسانی وسائل کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول خلیجی ممالک پر حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ خلیج کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے۔

سعودی ولی عہد نے خلیجی ریاستوں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون اور اقتصادی انضمام کی ضرورت پر بھی زور دیا، جبکہ سعودی عرب کی حمایت اور خطے میں سلامتی و استحکام کے فروغ میں کردار ادا کرنے پر برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

غزہ اور مسجد اقصیٰ کی صورتحال

محمد بن سلمان نے غزہ میں فلسطینیوں پر حملوں اور مسجد اقصیٰ کی مسلسل خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، پر زور دیا کہ وہ دیرپا سیاسی حل کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔

عالمی توانائی بحران پر تشویش

سعودی ولی عہد نے دنیا کو درپیش توانائی کے بحران کا بھی ذکر کیا اور بین الاقوامی پانیوں کو سیاسی یا اقتصادی دباؤ کے لیے استعمال کیے جانے کو مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود سعودی عرب نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی جاری رکھنے کی صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 1 اکتوبر، 2026 کو 08:11 AM

آخری تدوین: 1 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین