وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں محاذ آرائی کی صورت میں آئینی آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال، امن و امان اور افغان سرحد پر غور، محاذ آرائی کی صورت میں آئینی و قانونی آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے طرزِعمل پر سخت ردعمل دینے اور محاذ آرائی کی صورت میں آئینی و قانونی آپشن فوری طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال سمیت افغان سرحد اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وزیراعظم کو بریفنگ دی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف سے جاری مبینہ بیک ڈور رابطوں سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کیا گیا۔ وزیر قانون نے صوبے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے آئینی و قانونی نقطۂ نظر اور دستیاب آپشنز اجلاس میں پیش کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ اور امیر مقام نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال اور اتحادی جماعتوں سے رابطوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔
اجلاس میں صوبائی حکومت کو پیغام دینے پر بھی غور کیا گیا کہ وہ اپنا طرزِعمل تبدیل کرے، بصورت دیگر وفاق کی جانب سے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے کے انتظامی اور سیاسی مستقبل سے متعلق آئینی اختیارات کے استعمال پر بھی مشاورت کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کا قیام اور سرحدوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا اور صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے زیرِغور آئینی و قانونی اقدامات کی حتمی نوعیت اور ان کے عملی نفاذ کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
شائع ہوا: 1 اکتوبر، 2026 کو 09:14 AM
آخری تدوین: 1 اکتوبر، 2026



